19 جنوری 2014 - 20:30
امن مذاکرات کے لیے شامی حکومت پر کوئی پیشگی شرط عائد نہیں کی جا سکتی

شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ ان کا اقتدار سے علیحدہ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور یہ معاملہ جنیوا-2 مذاکرات میں موضوعِ بحث نہیں ہے۔

ابنا: صدر بشار الاسد نے دمشق میں روسی اراکینِ پارلیمان سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

ان مذاکرات کا مقصد شام میں جاری بحران کے خاتمہ کے لیے منصوبہ بندی بتایا جا رہا ہے۔ شام میں گزشتہ تقریبا تین برسوں سے بڑے پیمانے پر تشدد جاری ہے۔

شام میں حکومت مخالف غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے تشدد میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، مرنے والوں میں زیادہ تر عام شہری اور ایک بڑی تعداد سکیورٹی اہلکاروں کی بھی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 20 لاکھ سے زیادہ افراد ملک سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور 65 لاکھ افراد ملک کے اندر ہی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

واضح ہو کہ مغربی حمایت یافتہ نام نہاد شامی اتحاد نے جنیوا مذاکرات میں شرکت کا اعلان کیا ہے، اس سے قبل اس نے پیشگی شرط عائد کی تھی کہ جب تک شامی صدر بشارالاسد کو اقتدار سے نہيں ہٹایا جاتا وہ امن مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا۔

تاہم شامی حکومت کا کہنا ہے اس پر کسی قسم کی پیشگی شرائط عائد نہیں کی جا سکتیں۔

اور اب ایک بار پھر شامی حکومت مخالف اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ جب تک اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون کی جانب سے جنیوا-2 میں شرکت کے لیے ایران کو دی گئی دعوت واپس نہیں لی جاتی ہے وہ شرکت کا اپنا فیصلہ ملتوی رکھے گا۔

.......

/169